1

سُؤَال:

کیا نماز میں "علیؑ ولی اللہ" پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب:

نماز کے تشہد میں شہادتِ ثالثہ تمام فقہاۓ شیعہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نماز ایک توقیفی عبادت ہے جس کے اجزاء و شرائط کا دارومدار نبیؐ و امامؑ کی اجازت پر منحصر ہے۔ و بس۔

2

سُؤَال:

میرا سوال یہ ہے کہ جب ہمیں کہا گیا ہے کہ "شہادات" (دو سے زیادہ شہادتوں) پر قائم رہیں تو ہم تشہد میں صرف دو شہادتوں پر ہی کیوں رک جاتے ہیں؟ جبکہ علامہ تقی مجلسی، علامہ باقر مجلسی، علامہ شیخ صدوق کی درج کردہ کئی روایات میں، اور کئی تفاسیر (مثلا" تفسیرِ عیاشی) اور دیگر کئی کتب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہؑ "شہادات" پڑھا کرتے تھے۔
براۓ مہربانی واضح فرمائیں کہ تشہد میں دو سے زیادہ شہادتیں پڑھی جائیں یا دو پر رک جایا جاۓ؟

جواب:

یہ سوال غیر ذمےدار بلکہ بےلگام اور جاہل مقررین کی تفسیر بالرائے پر مبنی تقریروں کا نتیجہ ہے، ورنہ آیۃ مبارکہ

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (المعارج ٣٣)
"اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں"
کا نماز یا اسکے تشہد سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں خداوندِ عالم اہلِ ایمان کی یہ تعریف کر رہا ہے کہ اگر وہ کسی موقعے کے شاہد (گواہ) ہوں تو وہ اپنی شہادتوں (گواہیوں) پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کا کوئی طمع و لالچ یا دنیا کا کوئی خوف و ہراس ان کو گواہی سے منحرف نہیں کر سکتا کیونکہ شہادت کی ادائیگی واجب ہوتی ہے اور اس کا چھپانا گناہِ کبیرہ ہے۔
اور تفسیرِ عیاشی ہو یا حضرت شیخ صدوقؒ ہوں یا دوسرے علماۓ اعلام کسی بھی تحریر سے ائمۂ اہلبیت (علیہم السلام) کا نماز میں شہادتِ ثالثہ پڑھنا ثابت نہیں ہے، یہ سب حوالے بوگس ہیں۔ نماز کے تشہد میں صرف دو شہادتیں واجب ہیں یعنی شہادتِ توحید و رسالت و بس اور درود شریف میں پورے چہاردہ معصومینؑ داخل ہیں۔