1

سُؤَال:

کیا نماز میں "علیؑ ولی اللہ" پڑھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب:

نماز کے تشہد میں شہادتِ ثالثہ تمام فقہاۓ شیعہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ کیونکہ نماز ایک توقیفی عبادت ہے جس کے اجزاء و شرائط کا دارومدار نبیؐ و امامؑ کی اجازت پر منحصر ہے۔ و بس۔

2

سُؤَال:

نماز کی اہمیت کے بارے میں بتائیں۔

جواب:

نماز اسلام کا وہ اعظم رکن ہے کہ جس کے تارک کو خدا قرآن میں مشرک، پیغمبرِ اسلامؐ اسے کافر اور حیدر کرارؑ اسے اپنے شیعوں سے خارج قرار دیتے ہیں۔ اور ائمۂ طاہرینؑ نے تارکِ صلٰوۃ کو شفاعت کے استحقاق سے محروم قرار دیا ہے۔

روزِ محشر کہ جان گداز بود
اولیں   پرسش    نماز     بود
[قیامت کے روز جب ہر شخص کی جان پر بنی ہوگی، اس وقت پہلی پوچھ گچھ نماز کی ہوگی]

3

سُؤَال:

آپ کی طرف سے اذان میں "علیؑ ولی اللہ" پڑھنا جائز کیوں نہیں؟
اگر ہم یہ نہیں پڑھتے تو ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟

جواب:

تمام شیعی کتبِ حدیث و فقہ وغیرہ سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو اذان خداوندِ عالم نے مقرر فرمائی اور بذریعۂ جبرئیلِ امینؑ پیغمرِ اسلامؐ تک پہنچائی اور جو آپؐ نے سب سے پہلے حضرت امیرؑ کو بتائی اور پھر آپؑ نے جناب بلالؓ کو تعلیم دی اور انہوں نے آنحضرتؐ کے آخری لمحاتِ حیات تک دی، وہ اٹھارہ فصول پر مشتمل تھی یعنی یہ جملہ شامل نہیں تھا اور یہی اذان حضرت امیرؑ سے لے کر بارہویں لعلِ ولایتؑ کی غیبتِ کبریٰ تک ائمۂ اہلبیتؑ نے دی اور دلوائی لہذا ہم بھی وہی دیتے ہیں۔
اور ہم میں اور دوسروں میں حي علی خیر العمل کا فرق کافی ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جزوِ اذان ہے جبکہ دوسرے بھایئوں نے اسے اذان سے خارج کر دیا ہے۔

4

سُؤَال:

میرا سوال یہ ہے کہ جب ہمیں کہا گیا ہے کہ "شہادات" (دو سے زیادہ شہادتوں) پر قائم رہیں تو ہم تشہد میں صرف دو شہادتوں پر ہی کیوں رک جاتے ہیں؟ جبکہ علامہ تقی مجلسی، علامہ باقر مجلسی، علامہ شیخ صدوق کی درج کردہ کئی روایات میں، اور کئی تفاسیر (مثلا" تفسیرِ عیاشی) اور دیگر کئی کتب میں ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہؑ "شہادات" پڑھا کرتے تھے۔
براۓ مہربانی واضح فرمائیں کہ تشہد میں دو سے زیادہ شہادتیں پڑھی جائیں یا دو پر رک جایا جاۓ؟

جواب:

یہ سوال غیر ذمےدار بلکہ بےلگام اور جاہل مقررین کی تفسیر بالرائے پر مبنی تقریروں کا نتیجہ ہے، ورنہ آیۃ مبارکہ

وَالَّذِينَ هُم بِشَهَادَاتِهِمْ قَائِمُونَ (المعارج ٣٣)
"اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہنے والے ہیں"
کا نماز یا اسکے تشہد سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں خداوندِ عالم اہلِ ایمان کی یہ تعریف کر رہا ہے کہ اگر وہ کسی موقعے کے شاہد (گواہ) ہوں تو وہ اپنی شہادتوں (گواہیوں) پر قائم رہتے ہیں اور دنیا کا کوئی طمع و لالچ یا دنیا کا کوئی خوف و ہراس ان کو گواہی سے منحرف نہیں کر سکتا کیونکہ شہادت کی ادائیگی واجب ہوتی ہے اور اس کا چھپانا گناہِ کبیرہ ہے۔
اور تفسیرِ عیاشی ہو یا حضرت شیخ صدوقؒ ہوں یا دوسرے علماۓ اعلام کسی بھی تحریر سے ائمۂ اہلبیت (علیہم السلام) کا نماز میں شہادتِ ثالثہ پڑھنا ثابت نہیں ہے، یہ سب حوالے بوگس ہیں۔ نماز کے تشہد میں صرف دو شہادتیں واجب ہیں یعنی شہادتِ توحید و رسالت و بس اور درود شریف میں پورے چہاردہ معصومینؑ داخل ہیں۔

5

سُؤَال:

ايک پیش نماز کيا ايک سے زائد بار نماز عيدين پڑها سکتا ہے؟

جواب:

جو پيش نماز ایک بار عيد کی نماز ایک جگه پڑها لے، اسی دن کی نمازِ عيد دوباره نهيں پڑها سکتا۔
یہی حکم نمازِ جمعه اور عام پنجگانہ نماز کی جماعت کا بھی ہے۔

6

سُؤَال:

 کیا ایک عورت کے لیے جماعت کرانا جائز ہے جس میں مرد بھی اس کی اقتدا کر رہے ہوں؟

جواب:

عورت عورتوں کو تو نماز پڑھا سکتی ہے مگر کسی مرد کے لیے عورت کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

7

سُؤَال:

کیا ہم سنی امام کے پیچھے نماز ادا کرسکتے ہیں؟

جواب:

اسلامی رواداری کی خاطر اپنی اذان و اقامت کہہ کر اور فرادیٰ کی نیت کر کے اہلسنت پیشنماز کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

8

سُؤَال:

میں نے کینیڈا کی طرف نقل مکانی کی اور ایک اپارٹمنٹ خریدا۔ اس وقت میں نے ایک مقناطیسی قطب نما کی مدد سے قبلے کی سمت معلوم کی، اور 7 سال سے کچھ زیادہ عرصے نمازیں ادا کی۔ اسی دوران میں نے اپنے والد کی قضا نمازیں بھی ادا کیں۔ اب مجھے معلوم ہوا کہ وہ سمت غلط تھی اور صحیح سمت کا پتہ چلا ہے۔
براۓ مہربانی ان نمازوں کے بارے میں حکم بتائیں۔

جواب:

اگر غلطی معمولی تھی یعنی آپ نے اصلی سمت قبلہ کے دائیں یا بائیں جانب پڑھی ہیں تو پھر پڑھی ہوئی نمازیں صحیح ہیں انشاءاللہ۔ اور اگر غلطی بہت زیادہ تھی یعنی آپ نے قبلہ کی طرف پشت کرکے پڑھی ہیں تو پھر وہ نمازیں باطل ہیں اور ان کا اعادہ کرنا پڑے گا۔ واللہ العالم۔