1

سُؤَال:

آپ کی طرف سے اذان میں "علیؑ ولی اللہ" پڑھنا جائز کیوں نہیں؟
اگر ہم یہ نہیں پڑھتے تو ہم میں اور دوسروں میں کیا فرق ہے؟

جواب:

تمام شیعی کتبِ حدیث و فقہ وغیرہ سے جو ثابت ہے وہ یہ ہے کہ جو اذان خداوندِ عالم نے مقرر فرمائی اور بذریعۂ جبرئیلِ امینؑ پیغمرِ اسلامؐ تک پہنچائی اور جو آپؐ نے سب سے پہلے حضرت امیرؑ کو بتائی اور پھر آپؑ نے جناب بلالؓ کو تعلیم دی اور انہوں نے آنحضرتؐ کے آخری لمحاتِ حیات تک دی، وہ اٹھارہ فصول پر مشتمل تھی یعنی یہ جملہ شامل نہیں تھا اور یہی اذان حضرت امیرؑ سے لے کر بارہویں لعلِ ولایتؑ کی غیبتِ کبریٰ تک ائمۂ اہلبیتؑ نے دی اور دلوائی لہذا ہم بھی وہی دیتے ہیں۔
اور ہم میں اور دوسروں میں حي علی خیر العمل کا فرق کافی ہے کہ ہمارے نزدیک یہ جزوِ اذان ہے جبکہ دوسرے بھایئوں نے اسے اذان سے خارج کر دیا ہے۔